وَكَانُوا يَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا آمِنِينَ
احمد علی
او وہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے کہ امن میں رہیں
جالندہری
اور وہ پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے تھے (کہ) امن (واطمینان) سے رہیں گے
علامہ جوادی
اور یہ لوگ پہاڑ کو تراش کر محفوظ قسم کے مکانات بناتے تھے
محمد جوناگڑھی
یہ لوگ پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے تھے، بے خوف ہوکر
احمد رضا خان
اور وہ پہاڑوں میں گھر تراشتے تھے بے خوف
ابوالاعلی مودودی
وہ پہاڑ تراش تراش کر مکان بناتے تھے اور اپنی جگہ بالکل بے خوف اور مطمئن تھے
محمد حسین نجفی
اور وہ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے تاکہ امن و اطمینان سے رہیں۔
طاہر القادری
اور وہ لوگ بے خوف و خطر پہاڑوں میں گھر تراشتے تھے،