وَلَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِي هَٰذَا الْقُرْآنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ فَأَبَىٰ أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُورًا
احمد علی
او رہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر ایک قسم کی مثال بھی کھول کر بیان کر دی ہے پھر بھی اکثر لوگ انکار کیے بغیر نہ رہے
جالندہری
اور ہم نے قرآن میں سب باتیں طرح طرح سے بیان کردی ہیں۔ مگر اکثر لوگوں نے انکار کرنے کے سوا قبول نہ کیا
علامہ جوادی
اور ہم نے اس قرآن میں ساری مثالیں اُلٹ پلٹ کر بیان کردی ہیں لیکن اس کے بعد پھر بھی اکثر لوگوں نے کفر کے علاوہ ہر بات سے انکار کردیا ہے
محمد جوناگڑھی
ہم نے تو اس قرآن میں لوگوں کے سمجھنے کے لئے ہر طرح سے تمام مثالیں بیان کردی ہیں، مگر اکثر لوگ انکار سے باز نہیں آتے
احمد رضا خان
اور بیشک ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہم قسم کی مثل طرح طرح بیان فرمائی تو اکثر آدمیوں نے نہ مانا مگر ناشکری کرنا
ابوالاعلی مودودی
ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا مگر اکثر انکار ہی پر جمے رہے
محمد حسین نجفی
اور یقیناً ہم نے اس قرآن میں ہر طرح کی مثالیں (بار بار) ادل بدل کر بیان کی ہیں لوگوں کے لئے (تاکہ وہ سمجھیں) مگر اکثر لوگ انکار کئے بغیر نہ رہے۔
طاہر القادری
اور بیشک ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر طرح کی مثال (مختلف طریقوں سے) بار بار بیان کی ہے مگر اکثر لوگوں نے (اسے) قبول نہ کیا (یہ) سوائے ناشکری کے (اور کچھ نہیں)،