وَانْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا عَلَىٰ آلِهَتِكُمْ ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ
احمد علی
اور ان میں سے سردار یہ کہتے ہوئے چل پڑے کہ چلو اور اپنے معبودوں پر جمے رہو بے شک اس میں کچھ غرض ہے
جالندہری
تو ان میں جو معزز تھے وہ چل کھڑے ہوئے (اور بولے) کہ چلو اور اپنے معبودوں (کی پوجا) پر قائم رہو۔ بےشک یہ ایسی بات ہے جس سے (تم پر شرف وفضلیت) مقصود ہے
علامہ جوادی
اور ان میں سے ایک گروہ یہ کہہ کر چل دیا چلو اپنے خداؤں پر قائم رہو کہ اس میں ان کی کوئی غرض پائی جاتی ہے
محمد جوناگڑھی
ان کے سردار یہ کہتے ہوئے چلے کہ چلو جی اور اپنے معبودوں پر جمے رہو، یقیناً اس بات میں تو کوئی غرض ہے
احمد رضا خان
اور ان میں کے سردار چلے کہ اس کے پاس سے چل دو اور اپنے خداؤں پر صابر رہو بیشک اس میں اس کا کوئی مطلب ہے،
ابوالاعلی مودودی
اور سرداران قوم یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ "چلو اور ڈٹے رہو اپنے معبودوں کی عبادت پر یہ بات تو کسی اور ہی غرض سے کہی جا رہی ہے
محمد حسین نجفی
اور ان کے بڑے لوگ (سردار) یہ کہتے ہوئے (آپ(ص) کے پاس سے) اٹھ کھڑے ہوئے (اور قوم سے کہا) چلو اور اپنے معبودوں (کی عبادت) پر صبر و ثبات سے قائم رہو (ڈٹے رہو) یقیناً اس بات میں (اس شخص کی) کوئی غرض ہے۔
طاہر القادری
اور اُن کے سردار (ابوطالب کے گھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس سے اٹھ کر) چل کھڑے ہوئے (باقی لوگوں سے) یہ کہتے ہوئے کہ تم بھی چل پڑو، اور اپنے معبودوں (کی پرستش) پر ثابت قدم رہو، یہ ضرور ایسی بات ہے جس میں کوئی غرض (اور مراد) ہے،
: