فَمِنْهُمْ مَنْ آمَنَ بِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ صَدَّ عَنْهُ ۚ وَكَفَىٰ بِجَهَنَّمَ سَعِيرًا
احمد علی
پھران میں سے کوئی اس پر ایمان لایا اورکوئی اس سے ہٹ گیا اور دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ کافی ہے
جالندہری
پھر لوگوں میں سے کسی نے تو اس کتاب کو مانا اور کوئی اس سے رکا (اور ہٹا) رہا تو نہ ماننے والوں (کے جلانے) کو دوزخ کی جلتی ہوئی آگ کافی ہے
علامہ جوادی
پھر ان میں سے بعض ان چیزوں پر ایمان لے آئے اور بعض نے انکار کردیا اور ان لوگوں کے لئے دہکتا ہوا جہّنم ہی کافی ہے
محمد جوناگڑھی
پھر ان میں سے بعض نے تو اس کتاب کو مانا اور بعض اس سے رک گئے، اور جہنم کا جلانا کافی ہے
احمد رضا خان
تو ان میں کوئی اس پر ایمان لایا اور کسی نے اس سے منہ پھیرا اور دوزخ کافی ہے بھڑکتی آگ
ابوالاعلی مودودی
مگر ان میں سے کوئی اس پر ایمان لایا اور کوئی اس سے منہ موڑ گیا، اور منہ موڑ نے والوں کے لیے تو بس جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے
محمد حسین نجفی
پھر ان میں کچھ تو اس پر ایمان لائے اور کچھ روگردان ہوگئے اور (ایسوں کے لئے) دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ کافی ہے۔
طاہر القادری
پس ان میں سے کوئی تو اس پر ایمان لے آیا اور ان میں سے کسی نے اس سے روگردانی کی، اور (روگردانی کرنے والے کے لئے) دوزخ کی بھڑکتی آگ کافی ہے،
: