فَكَيْفَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ثُمَّ جَاءُوكَ يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ إِنْ أَرَدْنَا إِلَّا إِحْسَانًا وَتَوْفِيقًا
احمد علی
پھر کیاہوتا ہے جب ان کے اپنے ہاتھوں سے لائی ہوئی مصیبت ان پر آتی ہے پھر تیرے پاس آ کر خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم کو تو سوائے بھلائیا ور باہمی موافقت کے اور کوئی غرض نہ تھی
جالندہری
تو کیسی (ندامت کی) بات ہے کہ جب ان کے اعمال (کی شامت سے) ان پر کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو تمہارے پاس بھاگے آتے ہیں اور قسمیں کھاتے ہیں کہ والله ہمارا مقصود تو بھلائی اور موافقت تھا
علامہ جوادی
پس اس وقت کیا ہوگا جب ان پر ان کے اعمال کی بنا پر مصیبت نازل ہوگی اور وہ آپ کے پاس آکر خدا کی قسم کھائیں گے کہ ہمارا مقصد صرف نیکی کرنا اور اتحاد پیدا کرنا تھا
محمد جوناگڑھی
پھر کیا بات ہے کہ جب ان پر ان کے کرتوت کے باعﺚ کوئی مصیبت آپڑتی ہے تو پھر یہ آپ کے پاس آکر اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا اراده تو صرف بھلائی اور میل ملاپ ہی کا تھا
احمد رضا خان
کیسی ہوگی جب ان پر کوئی افتاد پڑے بدلہ اسکا جو انکے ہاتھوں نے آگے بھیجا پھر اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں، اللہ کی قسم کھاتے کہ ہمارا مقصود تو بھلائی اور میل ہی تھا
ابوالاعلی مودودی
پھر اس وقت کیا ہوتا ہے جب اِن کے اپنے ہاتھوں کی لائی ہوئی مصیبت ان پر آ پڑتی ہے؟ اُس وقت یہ تمہارے پاس قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ہم تو صرف بھلائی چاہتے تھے اور ہماری نیت تو یہ تھی کہ فریقین میں کسی طرح موافقت ہو جائے
محمد حسین نجفی
پھر کیسی گزرتی ہے جب ان پر کوئی مصیبت آپڑتی ہے اپنے ہاتھوں کی لائی ہوئی (ان کے کرتوتوں کی وجہ سے) تو آپ کی خدمت میں اللہ کے نام کی قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا مقصد تو بھلائی اور (فریقین میں) مصالحت کرانا تھا۔
طاہر القادری
پھر (اس وقت) ان کی حالت کیا ہوگی جب اپنی کارستانیوں کے باعث ان پر کوئی مصیبت آن پڑے تو اللہ کی قَسمیں کھاتے ہوئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوں (اور یہ کہیں) کہ ہم نے تو صرف بھلائی اور باہمی موافقت کا ہی ارادہ کیا تھا،
: