وَإِذَا أَنْعَمْنَا عَلَى الْإِنْسَانِ أَعْرَضَ وَنَأَىٰ بِجَانِبِهِ وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُو دُعَاءٍ عَرِيضٍ
احمد علی
اور جب ہم نے انسان پر انعام کیا تو اس نے منہ پھیر لیا اور کنارہ کش ہو گیا اور جب اس کو تکلیف پہنچی تو لمبی چوڑی دعا کرنے لگا
جالندہری
اور جب ہم انسان پر کرم کرتے ہیں تو منہ موڑ لیتا ہے اور پہلو پھیر کر چل دیتا ہے۔ اور جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو لمبی لمبی دعائیں کرنے لگتا ہے
علامہ جوادی
اور ہم جب انسان کو نعمت دیتے ہیں تو ہم سے کنارہ کش ہوجاتا ہے اور پہلو بدل کر الگ ہوجاتا ہے اور جب برائی پہنچ جاتی ہے تو خوب لمبی چوڑی رَعائیں کرنے لگتا ہے
محمد جوناگڑھی
اور جب ہم انسان پر اپنا انعام کرتے ہیں تو وه منھ پھیر لیتا ہے اور کناره کش ہوجاتا ہے اور جب اسے مصیبت پڑتی ہے تو بڑی لمبی چوڑی دعائیں کرنے واﻻ بن جاتا ہے
احمد رضا خان
اورجب ہم آدمی پر احسان کرتے ہیں تو منہ پھیر لیتا ہے اور اپنی طرف دور ہٹ جاتا ہے اور جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو چوڑی دعا والا ہے
ابوالاعلی مودودی
انسان کو جب ہم نعمت دیتے ہیں تو وہ منہ پھیرتا ہے اور اکڑ جاتا ہے اور جب اسے کوئی آفت چھو جاتی ہے تو لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے
محمد حسین نجفی
اور جب ہم انسان کو کوئی کچھ نعمت عطا کرتے ہیں تو وہ (تکبر سے)منہ پھیر لیتا ہے اور پہلو تہی کرنے لگتا ہے اورجب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو پھر لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے۔
طاہر القادری
اور جب ہم انسان پر انعام فرماتے ہیں تو وہ منہ پھیر لیتا ہے اور اپنا پہلو بچا کر ہم سے دور ہو جاتا ہے اور جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو لمبی چوڑی دعا کرنے والا ہو جاتا ہے،
: