وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا ۖ فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ
احمد علی
اوربرائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے پس جس نے معاف کر دیا اور صلح کر لی تو اس کا اجر الله کے ذمہ ہے بے شک وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا
جالندہری
اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے۔ مگر جو درگزر کرے اور (معاملے کو) درست کردے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمے ہے۔ اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
علامہ جوادی
اور ہر برائی کابدلہ اس کے جیسا ہوتا ہے پھرجو معاف کردے اور اصلاح کردے اس کااجر اللہ کے ذمہ ہے وہ یقینا ظالموں کو دوست نہیں رکھتا ہے
محمد جوناگڑھی
اور برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے، اور جو معاف کر دے اور اصلاح کرلے اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے، (فی الواقع) اللہ تعالیٰ ﻇالموں سے محبت نہیں کرتا
احمد رضا خان
اور برائی کا بدلہ اسی کی برابر برائی ہے تو جس نے معاف کیا اور کام سنوارا تو اس کا اجر اللہ پر ہے، بیشک وہ دوست نہیں رکھتا ظالموں کو
ابوالاعلی مودودی
برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے، پھر جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کرے اُس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے، اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا
محمد حسین نجفی
اور برائی کا بدلہ تو ویسے ہی برائی ہے اور جو معاف کر دے اورا صلاح کرے تو اس کا اجر خدا کے ذمہ ہے بیشک وہ (اللہ) ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔
طاہر القادری
اور برائی کا بدلہ اسی برائی کی مِثل ہوتا ہے، پھر جِس نے معاف کر دیا اور (معافی کے ذریعہ) اصلاح کی تو اُس کا اجر اللہ کے ذمّہ ہے۔ بیشک وہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا،