وَانْشَقَّتِ السَّمَاءُ فَهِيَ يَوْمَئِذٍ وَاهِيَةٌ
احمد علی
اور آسمان پھٹ جائے گا اوروہ اس دن بودا ہوگا
جالندہری
اور آسمان پھٹ جائے گا تو وہ اس دن کمزور ہوگا
علامہ جوادی
اور آسمان شق ہوکر بالکل پھس پھسے ہوجائیں گے
محمد جوناگڑھی
اور آسمان پھٹ جائے گا اور اس دن بالکل بودا ہوجائے گا
احمد رضا خان
اور آسمان پھٹ جائے گا تو اس دن اس کا پتلا حال ہوگا
ابوالاعلی مودودی
اُس دن آسمان پھٹے گا اور اس کی بندش ڈھیلی پڑ جائے گی
محمد حسین نجفی
اور آسمان پھٹ جائے گا اور وہ اس دن بالکل کمزور ہو جائے گا۔
طاہر القادری
اور (سب) آسمانی کرّے پھٹ جائیں گے اور یہ کائنات (ایک نظام میں مربوط اور حرکت میں رکھنے والی) قوت کے ذریعے (سیاہ) شگافوں٭ پر مشتمل ہو جائے گی، ٭ واھیۃ.... الوَھی: وَھِی، یَھِی، وَھیًا کا معنیٰ ہے: شق فی الادیم والثوب ونحوھما، یقال: وَھِیَ الثوب أی انشَقّ وَ تَخَرّقَ (چمڑے، کپڑے یا اس قسم کی دوسری چیزوں کا پھٹ جانا اور ان میں شگاف ہو جانا۔ اِسی لئے کہا جاتا ہے: کپڑا پھٹ گیا اور اس میں شگاف ہوگیا).... (المفردات، لسان العرب، قاموس المحیط، المنجد وغیرہ)۔ اسے جدید سائنس نے بلیک ہولز سے تعبیر کیا ہے۔
: