فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَيَقُولُ هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ
احمد علی
جس کو اس کا اعمال نامہ اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا سو وہ کہے گا لو میرا اعمال نامہ پڑھو
جالندہری
تو جس کا (اعمال) نامہ اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ (دوسروں سے) کہے گا کہ لیجیئے میرا نامہ (اعمال) پڑھیئے
علامہ جوادی
پھر جس کو نامئہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ سب سے کہے گا کہ ذرا میرا نامئہ اعمال تو پڑھو
محمد جوناگڑھی
سو جسے اس کا نامہٴ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وه کہنے لگے گا کہ لو میرا نامہٴ اعمال پڑھو
احمد رضا خان
تو وہ جو اپنا نامہٴ اعمال دہنے ہاتھ میں دیا جائے گا کہے گا لو میرے نامہٴ اعمال پڑھو،
ابوالاعلی مودودی
اُس وقت جس کا نامہ اعمال اُس کے سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا "لو دیکھو، پڑھو میرا نامہ اعمال
محمد حسین نجفی
پس جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا آؤ پڑھو میرانامۂ اعمال۔
طاہر القادری
سو وہ شخص جس کا نامۂ اَعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ (خوشی سے) کہے گا: آؤ میرا نامۂ اَعمال پڑھ لو،