وَإِنِّي كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوا أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِيَابَهُمْ وَأَصَرُّوا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا
احمد علی
اور بے شک جب کبھی میں نے انہیں بلایا تاکہ تو انہیں معاف کر دے تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں رکھ لیں اور انہوں نے اپنے کپڑے اوڑھ لیے اور ضد کی اوربہت بڑا تکبر کیا
جالندہری
جب جب میں نے ان کو بلایا کہ (توبہ کریں اور) تو ان کو معاف فرمائے تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور کپڑے اوڑھ لئے اور اڑ گئے اور اکڑ بیٹھے
علامہ جوادی
اور میں نے جب بھی انہیں دعوت دی کہ تو انہیں معاف کردے تو انہوں نے اپنی انگلیوں کو کانوں میں رکھ لیا اور اپنے کپڑے اوڑھ لئے اور اپنی بات پر اڑ گئے اور شدت سے اکڑے رہے
محمد جوناگڑھی
میں نے جب کبھی انہیں تیری بخشش کے لیے بلایا انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں اور اپنے کپڑوں کو اوڑھ لیا اور اڑ گئے اور بڑا تکبر کیا
احمد رضا خان
اور میں نے جتنی بار انہیں بلایا کہ تو ان کو بخشے انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور اپنے کپڑے اوڑھ لیے اور ہٹ کی اور بڑا غرور کیا
ابوالاعلی مودودی
اور جب بھی میں نے اُن کو بلایا تاکہ تو اُنہیں معاف کر دے، انہوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑوں سے منہ ڈھانک لیے اور اپنی روش پر اڑ گئے اور بڑا تکبر کیا
محمد حسین نجفی
اور میں نے جب بھی انہیں دعوت دی کہ (وہ اس لائق ہوں کہ) تو انہیں بخش دے تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑے اپنے اوپر لپیٹ لئے اور (اپنی روش پر) اڑے رہے اور بڑا تکبر کرتے رہے۔
طاہر القادری
اور میں نے جب (بھی) اُنہیں (ایمان کی طرف) بلایا تاکہ تو انہیں بخش دے تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں دے لیں اور اپنے اوپر اپنے کپڑے لپیٹ لئے اور (کفر پر) ہٹ دھرمی کی اور شدید تکبر کیا،
: