مُتَّكِئِينَ فِيهَا عَلَى الْأَرَائِكِ ۖ لَا يَرَوْنَ فِيهَا شَمْسًا وَلَا زَمْهَرِيرًا
احمد علی
اس میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے نہ وہاں دھوپ دیکھیں گے اور نہ سردی
جالندہری
ان میں وہ تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ وہاں نہ دھوپ (کی حدت) دیکھیں گے نہ سردی کی شدت
علامہ جوادی
جہاں وہ تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے نہ آفتاب کی گرمی دیکھیں گے اور نہ سردی
محمد جوناگڑھی
یہ وہاں تختوں پر تکیے لگائے ہوئے بیٹھیں گے۔ نہ وہاں آفتاب کی گرمی دیکھیں گے نہ جاڑے کی سختی
احمد رضا خان
جنت میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوں گے، نہ اس میں دھوپ دیکھیں گے نہ ٹھٹر (سخت سردی)
ابوالاعلی مودودی
وہاں وہ اونچی مسندوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہونگے نہ اُنہیں دھوپ کی گرمی ستائے گی نہ جاڑے کی ٹھر
محمد حسین نجفی
وہ وہاں اونچی مسندوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے وہ وہاں نہ سورج (کی گرمی) دیکھیں گے اور نہ سردی کی ٹھٹھر۔
طاہر القادری
یہ لوگ اس میں تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے، نہ وہاں دھوپ کی تپش پائیں گے اور نہ سردی کی شدّت،