إِنَّهُمْ كَانُوا لَا يَرْجُونَ حِسَابًا
احمد علی
بے شک وہ حساب کی امید نہ رکھتے تھے
جالندہری
یہ لوگ حساب (آخرت) کی امید ہی نہیں رکھتے تھے
علامہ جوادی
یہ لوگ حساب و کتاب کی امید ہی نہیں رکھتے تھے
محمد جوناگڑھی
انہیں تو حساب کی توقع ہی نہ تھی
احمد رضا خان
بیشک انہیں حساب کا خوف نہ تھا
ابوالاعلی مودودی
وہ کسی حساب کی توقع نہ رکھتے تھے
محمد حسین نجفی
یہ لوگ (روزِ) حساب (قیامت) کی توقع ہی نہیں رکھتے تھے۔
طاہر القادری
اس لئے کہ وہ قطعًا حسابِ (آخرت) کا خوف نہیں رکھتے تھے،
: