أَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌ
احمد علی
ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی
جالندہری
اور آنکھیں جھکی ہوئی
علامہ جوادی
آنکھیں خوف سے جھکیِ ہوں گی
محمد جوناگڑھی
جن کی نگاہیں نیچی ہوں گی
احمد رضا خان
آنکھ اوپر نہ اٹھا سکیں گے
ابوالاعلی مودودی
نگاہیں اُن کی سہمی ہوئی ہوں گی
محمد حسین نجفی
ان کی آنکھیں (شدتِ خوف سے) جھکی ہوئی ہوں گی۔
طاہر القادری
ان کی آنکھیں (خوف و ہیبت سے) جھکی ہوں گی،