وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَىٰ
احمد علی
اور آپ کو (شریعت سے) بے خبر پایا پھر (شریعت کا) راستہ بتایا
جالندہری
اور رستے سے ناواقف دیکھا تو رستہ دکھایا
علامہ جوادی
اور کیا تم کو گم گشتہ پاکر منزل تک نہیں پہنچایا ہے
محمد جوناگڑھی
اور تجھے راه بھوﻻ پا کر ہدایت نہیں دی
احمد رضا خان
اور تمہیں اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی
ابوالاعلی مودودی
اور تمہیں ناواقف راہ پایا اور پھر ہدایت بخشی
محمد حسین نجفی
اور آپ(ص) کو گمنام پایا تو (لوگوں کو آپ(ص) کی طرف) راہنمائی کی۔
طاہر القادری
اور اس نے آپ کو اپنی محبت میں خود رفتہ و گم پایا تو اس نے مقصود تک پہنچا دیا۔ یا- اور اس نے آپ کو بھٹکی ہوئی قوم کے درمیان (رہنمائی فرمانے والا) پایا تو اس نے (انہیں آپ کے ذریعے) ہدایت دے دی۔٭، ٭ اِس ترجہ میں ضالاً کو فَھَدٰی کا مفعولِ مقدم قرار دیا گیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: التفسیر الکبیر، القرطبی، البحر المحیط، روح البیان، الشفاء اور شرح خفاجی)